کارروائی کے دوران محمد یوسف ضیا طلائی کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹ کام نے اسے دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنانے اور امریکی و اتحادی افواج کے تحفظ کے لیے ایک اہم کارروائی قرار دیا ہے۔ سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے بیان میں کہا “ہم ان دہشت گردوں کا بنا تھکے تعاقب جاری رکھیں گے تاکہ اپنے وطن، امریکی، اتحادی اور شراکت دار افواج کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔”
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیث نے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کی تصدیق کی کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمانڈرز کو فضائی حملوں کی اجازت دینے کے قوانین میں نرمی کی تھی۔
جنوری سے اب تک سینٹ کام نے حراس الدین کے متعدد سینئر رہنماؤں کو ہلاک کیا ہے۔ 30 جنوری کو سینٹ کام نے اعلان کیا کہ محمد صلاح الزعبیر کو شام میں ایک دوسرے فضائی حملے میں مارا گیا۔ اس موقع پر جنرل کوریلا نے کہا تھا “سینٹ کام دہشت گردوں کی ہلاکت یا گرفتاری کے لیے اپنا مشن جاری رکھے گا۔”
اسی طرح 16 فروری کو ایک اور کارروائی میں حراس الدین کے ایک سینئر مالیاتی اور لاجسٹکس اہلکار کو ہلاک کیا گیا۔ 22 فروری کو سینٹ کام نے ایک اور حملے میں وسیم تحسین بیرقدار کو مارنے کا دعویٰ کیا، جسے تنظیم کا “سینئر قیادت کا سہولت کار” قرار دیا گیا تھا۔




















