سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اراکین نے سی ای او کےالیکٹرک مونس علوی پر برہمی کا اظہار کیا تھا، مونس علوی نے سندھ اسمبلی میٹنگ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ مل کرکام کرنا چاہتے ہیں۔
کےالیکٹرک سی ای او نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں چیئرمین کی اجازت کے بعد میٹنگ سے روانہ ہوا، کھلی کچہریوں کا انعقاد جاری رکھا جائےگا۔
مونس علوی نے کہا کہ مفت بجلی کی فراہمی ممکن نہیں، حکومت 300 فیڈرز لیکر ریکوری میں مدد دے تو لوڈشیڈنگ ختم ہوسکتی ہے، ہماری کوشش ہے لوڈشیڈنگ فیڈرز کے بجائے ٹرانسفارمرز سے کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ کےالیکٹرک نیٹ ورک کا 70فیصد حصہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے، باقی 30فیصد نیٹ ورک کو نقصانات کا سامنا ہے، آخری 150 فیڈرز پر نقصانات 87 فیصد تک ہیں۔




