اٹک ضلع میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر رقبہ بارانی ہے جہاں فصلوں کی پیداوار کا مکمل دار و مدار قدرتی بارشوں پر ہوتا ہے، لیکن اس سال بارشیں کم ہونے کی وجہ سے گندم کی فصل کی پیداوار انتہائی کم ہے۔
کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے بیج اور کھاد کی قیمتیں بھی اس وقت آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، رہی سہی کسر حکومت نے سرکاری ریٹ انتہائی کم مقرر کر کے نکال دی ہے، جس سے زمیندار سراسر نقصان میں ہے۔
کاشت کاروں نے کہا حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری ریٹ کسانوں کے فصل کی کاشت سے لے کر پیداوار کے حصول تک کے اخراجات کا اندازہ لگاتے ہوئے مقرر کرے۔
گندم کی فصل تیار ہونے کے بعد اس کی گہائی بھی ایک مشکل اور مہنگا مرحلہ ہے، ڈیزل کی قیمتوں میں آئے روز اضافے کی وجہ سے مشین مالکان کے ریٹس بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔
محکمہ زراعت اٹک کے افسران گندم کی رواں سال پیداوار کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور حکومت پنجاب کے زرعی اقدامات کو کسان دوست قرار دے رہے ہیں۔
کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں کسان خوش حال ہوگا تو ملک کی معیشت بھی مضبوط اور اچھی ہوگی، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو بیج اور کھادوں پر سبسڈی فراہم کرے تاکہ کسان کی خوش حالی کے ساتھ ملک بھی خوش حال رہے۔




