نیویارک میں شمالی کوریا کے سفارت کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک خط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کا مقصد واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان رابطے کا ایک در دوبارہ وا کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بدھ کو این کے نیوز کی رپورٹ پر رد عمل میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران کم کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تھے، اب بھی وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ بات چیت کا خیر مقدم کریں گے۔ انھوں نے کہا صدر ٹرمپ 2018 کے سنگاپور سمٹ کی پیش رفت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی 2017-2021 کی پہلی صدارتی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں میں میں 3 بار ملاقات ہوئی تھی، اور متعدد خطوط کا تبادلہ کیا گیا تھا، جسے ٹرمپ نے ’’خوب صورت‘‘ خطوط کہا۔ جون 2019 میں ٹرمپ نے ایک غیر فوجی زون میں کم کے ساتھ ڈرامائی مصافحہ کیا تھا، اور ٹرمپ نے مختصر طور پر شمالی کوریا میں قدم رکھا، اور ایسا کرنے والے وہ پہلے امریکی صدر بنے۔
امریکا کے برعکس شمالی کوریا کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ خط و کتابت سے متعلق فیصلے شمالی کورین صدر کم جونگ ان خود کریں گے۔




















