ایپل انکارپوریٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چار سالوں کے دوران امریکہ میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایپل کے سی ای او ٹم کُک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کا مقصد آئی فونز، آئی پیڈز یا میک بکس کی تیاری نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی مینوفیکچرنگ بدستور چین، تائیوان، ویتنام اور بھارت میں جاری رہے گی۔
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایپل اس سرمایہ کاری کو اپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی "ایپل انٹیلی جنس” کے فروغ کے لیے استعمال کرے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنی ریاست ٹیکساس میں ایک بڑی فیکٹری قائم کرے گی جہاں اے آئی سرورز تیار کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کمپنی تحقیق و ترقی کے شعبے میں 20 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید ترقی کی جا سکے۔
ایپل کی اس سرمایہ کاری میں امریکی کمپنیوں سے پرزہ جات اور دیگر اجزاء خریدنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جن میں کورننگ جیسی کمپنیاں شامل ہیں جو آئی فونز کے لیے گلاس پینلز تیار کرتی ہیں۔ مزید برآں اس سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ ایپل کی سٹریمنگ سروس "ایپل ٹی وی+” کی توسیع پر بھی خرچ کیا جائے گا، جس کے تحت مزید امریکی فلموں اور ٹی وی شوز کی تیاری ممکن ہوگی۔
کمپنی نے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل ایپل زیادہ تر تائیوانی کمپنی فوکس کون پر انحصار کرتا تھا لیکن اب اس نے ریاست ایریزونا میں تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی کے تعاون سے چپس کی ماس پروڈکشن شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، ایپل اور فوکس کون نے مل کر ریاست ہیوسٹن میں ڈھائی لاکھ مربع فٹ پر محیط ایک وسیع و عریض فیکٹری بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں ڈیٹا سینٹرز کے لیے سرورز تیار کیے جائیں گے۔
ایپل کی سرمایہ کاری کا ایک اور اہم پہلو امریکہ میں ہنر مند افرادی قوت کی تربیت ہے۔ کمپنی مشی گن میں ایک "مینوفیکچرنگ اکیڈمی” قائم کرے گی جہاں انجینئرز اور ماہرین فیکٹری ورکرز کو مفت کورسز فراہم کریں گے۔ ان کورسز میں پروجیکٹ مینجمنٹ، مہارتوں کی تربیت، فیکٹری آپریشنز، اور مینوفیکچرنگ کے جدید طریقے شامل ہوں گے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپل کی 500 ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری درحقیقت ممکنہ محصولات سے بچنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر اپنے بیان میں ایپل اور اس کے سی ای او ٹم کُک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی حکومت پر ایپل کے اعتماد کا مظہر ہے۔ایپل کے اس اعلان کے بعد کمپنی کے شیئرز میں 1.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔




