اسرائیلی فوج کی ایک تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے حوالے سے سنگین غلط اندازے لگائے گئے، جس کے باعث اسرائیلی دفاعی حکمت عملی ناکام رہی۔ اس تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اس معاملے پر جامع تحقیقات کروائیں اور سیاسی فیصلہ سازی کے عوامل کو واضح کریں جن کے نتیجے میں یہ حملہ اور بعد میں غزہ کی جنگ ہوئی۔
تحقیق میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ اسرائیل میں کئی حلقے اس ناکامی کی ذمہ داری فوج سے زیادہ نیتن یاہو پر عائد کرتے ہیں، کیونکہ ان کے فیصلوں نے دفاعی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ اس حکمت عملی کے تحت قطر کو غزہ کے لیے مالی امداد بھیجنے کی اجازت دی گئی، جبکہ حماس کے مخالف گروہوں کو کمزور کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جدید ترین فوج حماس کے عزائم اور اس کی طاقت کو صحیح طور پر پرکھنے میں ناکام رہی۔ اندازہ تھا کہ حماس زمینی حملے محدود راستوں سے کرے گی، لیکن حقیقت میں اس کے پاس حملے کے لیے 60 سے زائد راستے موجود تھے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خفیہ اداروں کو حملے سے چند گھنٹے قبل غیر معمولی سرگرمیوں کے اشارے ملے تھے، جیسے کہ حماس کے جنگجوؤں کا اپنے فونز کو اسرائیلی نیٹ ورک پر منتقل کرنا، لیکن ان نشانیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس حملے کے بعد یہ تاثر بھی غلط ثابت ہوا کہ حماس کے پاس فیصلہ سازی اور جنگی حکمت عملی کی صلاحیت محدود ہے۔
مزید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ حماس کے اس حملے کی منصوبہ بندی 2017 میں شروع ہوئی تھی، اور اس کے ماسٹر مائنڈ یحییٰ سنوار تھے، جنہیں بعد میں شہید کر دیا گیا۔ حملے کے بعد اسرائیلی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، جو آئندہ ماہ اپنے عہدے باضابطہ طور پر چھوڑ دیں گے۔




