بیرون ملک قانونی طریقے سے کام کے بعد حال ہی میں وطن واپس آنے والے معظم علی کے لیے یہ حیران کن تھا کہ ان کا نام سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ اب انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ وقت پر واپس نہ جا سکے تو ان کا ورک پرمٹ منسوخ ہو سکتا ہے اور آئندہ اس خلیجی ملک میں داخلے پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف معظم علی تک محدود نہیں بلکہ کئی پاکستانی شہری اسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ چھٹی گزارنے پاکستان آئے تھے، مگر واپسی پر انہیں سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
حکام کا مؤقف
محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے مطابق کسی بھی شہری کو غیر ضروری طور پر بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا رہا۔ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، مصطفیٰ جمال قاضی کے مطابق، حالیہ دنوں میں کئی پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا، جس کے بعد ان کے نام سفری پابندیوں کی فہرست میں ڈالے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک نے پاکستانی پاسپورٹ کے غلط استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی شکایات درج کرائی تھیں، جس کی وجہ سے بعض افراد کو سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
قانونی ماہرین کی رائے
امیگریشن قوانین کے ماہر میجر (ر) بیرسٹر محمد ساجد مجید کے مطابق، حکومت نے مختلف وجوہات کی بنا پر شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں سوشل میڈیا پر ممنوعہ مواد کی تشہیر، کسی کالعدم تنظیم سے وابستگی اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔
بیرسٹر ساجد نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے پاکستانی کارکنان پروٹیکٹوریٹ آف امیگریشن سے انشورنس نہیں کراتے، جو بعد میں ان کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ اگر کوئی فرد قانونی طور پر ملازمت حاصل کرنے کے باوجود یہ انشورنس نہیں کراتا تو ڈی پورٹ ہونے کی صورت میں اس کا نام سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پروٹیکٹوریٹ آف امیگریشن کی انشورنس اسکیم کے تحت محض 2500 روپے میں 10 لاکھ روپے تک کا تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، حساس ادارے ممنوعہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی تفصیلات وزارت داخلہ کو فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے افراد کے نام خاموشی سے سفری پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیے جاتے ہیں اور انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا جاتا ہے۔




