ترکی میں کالعدم قرار دی گئی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ تنظیم کے قید رہنما عبداللہ اوجلان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور گروپ کو تحلیل کرنے کی اپیل کے بعد کیا گیا ہے۔ اگر یہ اقدام کامیاب ہوتا ہے تو اس کے خطے پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایک ایسے تنازع کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے، جس میں 1984 سے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق عبداللہ اوجلان نے جمعرات کے روز پی کے کے سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسلح کارروائیاں ختم کرے اور خود کو تحلیل کر دے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت اور کرد نواز اپوزیشن جماعت ڈی ای ایم پارٹی نے اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس ممکنہ پیشرفت سے اردوان کو اندرونی سطح پر سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور جنوب مشرقی ترکی میں پائیدار امن اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جہاں یہ تنازع ہزاروں جانیں نگل چکا ہے اور معیشت کو بری طرح متاثر کر چکا ہے۔
پی کے کے نے امید ظاہر کی ہے کہ انقرہ حکومت اوجلان کو مزید آزادی فراہم کرے گی تاکہ وہ جنگ بندی کے عمل کی قیادت کر سکیں۔ گروپ کے بیان کے مطابق "ہم بطور پی کے کے، اس مطالبے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور اپنی جانب سے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔” تاہم گروپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہتھیار ڈالنے جیسے اقدامات اوجلان کی براہ راست قیادت میں ہی ممکن ہوں گے۔




