غزہ میں خوراک کی کمی کے باعث اسقاط حمل میں اضافہ ہوگیا ہے، خوراک کی کمی کے باعث اسقاط حمل کے 300 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
58فلسطینی غذائی قلت اور 242 خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث شہید ہوئئے۔
اسرائیل نے اپنے 11 ہفتوں کے محاظر میں جزوی نرمی کے بعد رواں ہفتے امداد کے صرف چند ٹرکوں کو غزہ تک جانے کی اجازت دی ہے۔
دو روز قبل فلسطينی وزير صحت ماجد ابو رمضان نے کہا تھا کہ جنگ زدہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں حاليہ دنوں ميں کم از کم 29 بچوں اور بزرگوں کی موت فاقہ کشی اور خوراک کی عدم دستيابی سے جڑے طبی مسائل کی وجہ سے ہوئی۔
انہوں نے خبردار کيا تھا کہ کھانے پينے کی اشياء کی عدم دستيابی کے سبب غزہ پٹی میں مزید ہزاروں نومولود یا شیر خوار بچوں اور عمر رسيدہ باشندوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔
سیکریٹری جنرل یو این انتونیو گوتریس نےغزہ کی صورتحال کو جنگ کا سب سے ظالمانہ مرحلہ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی 11 ہفتے کی ناکہ بندی کے باعث فلسطینی بھوکے مررہے ہیں، غزہ کو روزانہ 500 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے۔




