ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بدقسمت گھر کی کہانی نے پورے علاقے میں کہرام مچادیا تھا۔ گاؤں کے کنارے واقع، ایک عام سا گھر، جس میں ایک کسان اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا، اس کی تقدیر کچھ عجیب ہوگئی تھی۔ یہ گھر چند دنوں میں خوف کا مرکز بن گیا تھا، کیونکہ ایک ہی ہفتے کے دوران وہاں 22 مرتبہ آگ بھڑک اٹھی تھی۔
ابتداء میں کسی نے اسے محض ایک اتفاق سمجھا۔ لیکن جب آگ مسلسل لگنے لگی، تو گاؤں کے لوگ بھی دنگ رہ گئے۔ گھر کے اندر ہر کمرے میں، چولہے کے پاس، فرنیچر پر، یہاں تک کہ کتابوں اور کپڑوں میں بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آنے لگے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ آگ لگنے کا کوئی واضح سبب نہیں تھا۔ کہیں سے چمکدار روشنی دکھائی دیتی، اور پھر فوراً شعلے نکل آتے۔ کسان اور اس کے خاندان کے افراد ان واقعات کو دیکھ کر لرزنے لگے، اور وہ سوچنے لگے کہ آخر ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
ایک دن، جب خاندان والے گھر کے اندر کام کر رہے تھے، اچانک ایک تیز دھماکے کی آواز آئی۔ کمرے کے ایک کونے میں رکھی ایک لکڑی کی میز جلنے لگی تھی۔ اس بار آگ اتنی تیز تھی کہ وہ فوراً پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے آئی۔ کسان اور اس کی بیوی نے بڑی مشکل سے آگ بجھائی، لیکن دل میں ایک خوف کا سایہ سا بن چکا تھا۔
گاؤں والے بھی ان پراسرار واقعات کے بارے میں سنے بغیر نہ رہ سکے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ کوئی قدرتی حادثہ ہے، لیکن بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کچھ اور ہی ہے، شاید کوئی روحانی یا ماورائی طاقت ان کے پیچھے ہو۔ گاؤں میں یہ بات پھیل گئی کہ کسان کا گھر بدقسمت ہے، اور اب کوئی بھی وہاں سامان لینے جانے کو تیار نہیں تھا۔
دس دنوں میں، کسان نے کم از کم پانچ بار پولیس کو اطلاع دی تھی، اور ہر بار آگ کے لگنے کے بعد انسپکٹر اور اہلکار آتے، مگر تحقیقات کے باوجود کچھ بھی سامنے نہیں آتا تھا۔ ہر مرتبہ آگ بجھانے کے بعد، جب کسان اور اس کے اہل خانہ گھر کے کمرے میں واپس جاتے، تو کچھ نہ کچھ اور جلے ہوئے شواہد مل جاتے۔
یہ سلسلہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک دن جب کسان اور اس کی بیوی اپنے بچوں کو سلا کر باہر کی ہوا میں سانس لینے گئے، گھر کے اندر پھر سے ایک آگ نے سر اٹھایا۔ لیکن یہ مرتبہ کچھ مختلف تھا۔ آگ اتنی تیز تھی کہ گھر کے ایک کمرے کا پورا فرنیچر جل کر خاک ہوگیا۔ کسان کی بیوی تو بے ہوش ہو گئی، اور کسان خود بھی ایک لمحے کے لیے کچھ سمجھ نہیں پایا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔
گاؤں میں یہ بات پھیل گئی کہ یہ گھر واقعی بدقسمت ہے۔ نہ صرف گھر والے بلکہ پورا گاؤں خوف کی فضا میں ڈوبا ہوا تھا۔ لیکن پھر ایک دن گاؤں کے بزرگوں میں سے ایک شخص آیا جس نے بتایا کہ یہ واقعات قدرتی نہیں ہیں۔ اُس بزرگ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کسی قدیم غلطی یا بددعا کا اثر ہو۔ اس کے بعد، ایک روحانی رہنما نے خاندان کے گھر کا دورہ کیا اور وہاں کچھ رسوم ادا کیں۔
ان رسوم کے بعد، عجیب و غریب واقعات کم ہونے لگے، لیکن نہ تو آگ لگنے کا سلسلہ ختم ہوا، اور نہ ہی لوگوں کا خوف۔ یہ کہانی اس گاؤں میں آج تک سنائی جاتی ہے کہ ایک چھوٹے سے گھر میں 22 مرتبہ آگ بھڑک اٹھی تھی، اور آخرکار اس بدقسمتی کا کیا حال ہوا، یہ کوئی نہیں جان سکا۔ وہ بدقسمت گھر اب بھی وہاں موجود ہے، لیکن اس کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے ہیں، اور لوگوں نے وہاں جانے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔




