پاکستانی وفد کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ امن اور بات چیت ہونی چاہیے، وہ کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے، وہ ضرور کوشش کریں گے کہ ہمارے درمیان بات چیت ہو
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کے پیغامات سے نظر آ رہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امن کے اقدامات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، امریکا کو بھارت کو کان سے پکڑ کر بھی لانا پڑا تو لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، پاکستان سمجھتا ہے ڈائیلاگ کے ذریعے تمام ایشوز کا حل نکالا جا سکتا ہے لیکن بھارت کا نظریہ اور بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، سیز فائر کا تو مرحلہ گزر گیا بھارت کا طریقہ کار سب کے سامنے ہے، اس کی جنگ بھی جھوٹ پر مبنی تھی، جنگ کے دوران افواج پاکستان نے دکھا دیا کہ ہم دفاع کر سکتے ہیں۔
پاکستانی وفد کے سربراہ نے مزید کہا کہ تمام چیزوں کے باوجود پاکستان امن اور بھارت جنگ کی بات کر رہا ہے، بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ واپس لینا پڑے گا، مسائل کے حل کیلیے بات چیت اور مذاکرات کی طرف بڑھنا ہوگا، بھارت ہمارا پانی بند نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، دنیا میں امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو بھارت کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
’بھارت کی سکھوں کے خلاف ٹارگٹڈ مہم جاری رہی ہے۔ جب بھارت پاکستان پر الزام لگا رہا تھا تو دنیا ان کے ساتھ نہیں تھی۔ پوری دنیا کو معلوم ہے بھارت نے سکھوں کا قتل کیا ہے۔ اس نے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کر کے پاکستان میں دہشتگردی کروائی۔ کینیڈا نے کہا ہے کہ بھارت دہشتگرد تنظیموں کو پیسے دے کر سکھوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔




