امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے یمن کے حوثیوں کو باضابطہ طور پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
یہ طیارہ بردار جہاز اس ہفتے سینٹ کام کے دائرہ اختیار میں واپس آیا ہے۔ ٹرومین پچھلے ماہ بحیرہ احمر سے نکل کر سوڈا بے میں لنگر انداز ہوا تھا، جہاں دو ماہ کی جنگی کارروائیوں کے بعد اسے مرمت اور دیگر کاموں کے لیے روکا گیا تھا۔ اس دوران اس نے یمن سے حوثی حملوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
سوڈا بے میں قیام کے بعد ٹرومین جہاز مصر کے پورٹ سعید کے قریب ایک تجارتی جہاز سے ٹکرا گیا تھا جس کے بعد اسے مرمت کے عمل سے گزرنا پڑا۔ مرمت کے بعد یہ دوبارہ مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہو چکا ہے اور اسے صومالیہ میں فضائی حملوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے، جہاں داعش صومالیہ کے سینئر جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک ایم کیو 9 ریپر ڈرون کو مار گرایا جو یمنی فضائی حدود میں "دشمنانہ مشنز” انجام دے رہا تھا۔ امریکی دفاعی حکام نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ امریکی فضائیہ نے بحیرہ احمر پر ایک ایم کیو 9 سے رابطہ کھو دیا تھا اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ ڈرون آپریشن "پوسایڈن آرچر” کے تحت کارروائیاں کر رہا تھا، جو یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مہم کا حصہ ہے۔
دریں اثنا ٹرمپ انتظامیہ نے اس ہفتے باضابطہ طور پر حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا۔ بائیڈن انتظامیہ نے یمن میں انسانی بحران کے پیش نظر اس فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بائیڈن حکومت نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال کرنے کی کوششوں کے تحت حوثیوں پر دباؤ کم کیا تھا۔ اب ٹرمپ کے فیصلے کے بعد امریکی فوجی کمانڈرز کو حوثیوں کے خلاف جارحانہ حملوں کے مزید اختیارات مل گئے ہیں۔




