امریکہ میں پابندیاں، چین میں مواقع – پاکستانی طالب علموں کا جھکاؤ چین کی جانب
حال ہی میں پاکستانی طالب علموں کو امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے اور ویزے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ کے داخلے منسوخ کر دیے گئے۔ امریکہ میں قومی سلامتی کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے، درجنوں پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی طلبا کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔ اس صورت حال میں چین ایک بڑے متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبا کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چین کی یونیورسٹیوں میں اس وقت 28 ہزار سے زائد پاکستانی طلبا زیر تعلیم ہیں، جس کے ساتھ ہی پاکستان ان ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں سے سب سے زیادہ طلبہ چین میں پڑھنے جاتے ہیں۔ 2024 میں 196 ممالک سے تقریباً 4 لاکھ 92 ہزار بین الاقوامی طلبا نے چین میں تعلیم حاصل کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔
چینی حکومت کی طرف سے دی جانے والی مختلف اسکالرشپ اسکیمز، خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے جڑے ممالک کے لیے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے طلبا کے لیے بڑی سہولت بن گئی ہیں۔ چین میں پاکستانی طالب علم چینی زبان، انجینئرنگ، میڈیکل، آئی ٹی، اور سوشل سائنسز جیسے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں 6 ہزار سے زائد پی ایچ ڈی، 3 ہزار 600 ماسٹرز، 11 ہزار 100 انڈر گریجویٹ اور تقریباً 3 ہزار شارٹ ٹرم پروگرامز میں شامل ہیں۔
اسی دوران، امریکی تعلیمی ادارے بین الاقوامی طالب علموں کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ دور حکومت کے دوران بننے والی سخت پالیسیاں اب بھی کئی طالب علموں کو متاثر کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، پاکستانی طالب علموں کے لیے معروف گلوبل یو گراڈ پروگرام بھی ختم کر دیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کا ایک اہم ذریعہ تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ویزوں کی منسوخی، طالب علموں کے امیگریشن اسٹیٹس کی معطلی، اور ملک بدری جیسے اقدامات سے تعلیمی ماحول غیر یقینی ہو چکا ہے۔ بیشتر طلبہ کو ان فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کا بھی مناسب موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔
ان اقدامات سے متاثرہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے متبادل تعلیمی مواقع کی تلاش شروع کر دی ہے، جس میں چین اور یورپ نمایاں ترجیحات بن کر ابھرے ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو اور ویانا کی سینٹرل یورپین یونیورسٹی جیسے اداروں نے امریکی پالیسیوں سے متاثر ہونے والے بین الاقوامی طالب علموں میں دلچسپی کا اضافہ رپورٹ کیا ہے۔
عالمی سطح پر بین الاقوامی طلبا نہ صرف تعلیمی ماحول کو بہتر بناتے ہیں بلکہ معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صرف امریکہ میں غیر ملکی طالب علموں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے، جو ہر سال اربوں ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا کرتے ہیں اور لاکھوں مقامی ملازمتوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔
چین کی جانب سے پاکستانی طلبا کے لیے نئے اسکالرشپ پروگرامز، جن میں آزاد کشمیر کے طلبا بھی شامل ہیں، 2025-26 تعلیمی سال کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروگرام انڈرگریجویٹ، ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی سمیت تحقیقی مواقع فراہم کرتے ہیں، جو چینی تعلیم کو پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک پُرکشش انتخاب بنا رہا ہے۔




