ایران کی وزارت خارجہ نے افغانستان کے دریائے ہریرود پر بنائے جانے والے ڈیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ آ سکتی ہے اور یہ دونوں ممالک کے مابین طے پائے معاہدوں کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کی سرحد 900 کلومیٹر سے زیادہ مشترکہ ہے، اور پانی کے حقوق پر تنازعہ طویل عرصے سے موجود ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاشدان ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے ایران کی طرف آنے والے پانی کی کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران نے اس مسئلے کو افغان حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔
افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور عبدالغنی برادر نے گزشتہ ماہ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پاشدان منصوبہ مکمل ہونے کے قریب ہے اور پانی ذخیرہ کیا جانے لگا ہے۔ ویڈیو کے مطابق، صوبہ ہرات میں تعمیر ہونے والا یہ ڈیم تقریباً 54 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرے گا، جس سے 13 ہزار ہیکٹر اراضی کو سیراب کرنے کے ساتھ 2 میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوگی۔




