روس سے جنگ کے بیچ یوکرین کو ایک لاکھ ڈرون کی مدد کرکے برطانیہ نے اپنا رخ بھی واضح کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ کا کہنا ہے کہ ڈرونز نے جنگ کا رخ ہی بدل دیا ہے اور ان کے ذریعہ یوکرین کو بڑی مدد حاصل ہوسکتی ہے، اس لیے ہم نے ڈرون کی سپلائی میں 10 گنا تک اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ جرمنی کی جانب سے بھی اعلان کیا جاچکا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں یوکرین کو لانگ رینج کی میزائلیں فراہم کرے گا۔
برطانیہ کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے یوکرین کی کھل کر مدد کی ہے۔ اب تک کی توپ، بندوقوں اور گولی باری کی جنگ میں یوکرین کو شکست ملی ہے لیکن ڈرون وارفیئر کی مدد سے اس نے روس کو بڑا دھچکا لگا یا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں کے بعد سے یہ بحث ہونے لگی ہے کہ مستقبل کا وارفیئر ڈرون سے ہوگا۔ ایسے میں برطانیہ کی مدد نے صاف کر دیا ہے کہ وہ یوکرین کو کھل کر مدد دینا جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سختی سے کہا ہے کہ یوکرین کو فضائی اڈوں پر حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
بدھ کو روسی صدر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 75 منٹ کی طویل ٹیلیفونگ گفتگو ہوئی۔
امریکی صدر نے روسی ہم منصب سے گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ روسی صدر پیوٹن سے ایک گھنٹہ پندرہ منٹ تک بات ہوئی۔




