امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کانگریس کو اسرائیل کے ساتھ آٹھ ارب ڈالر کے ممکنہ اسلحے کے معاہدے کی اطلاع دی ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق اس معاہدے میں لڑاکا طیاروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں کے لیے گولہ بارود، توپ خانے کے گولے اور چھوٹے قطر کے بم اور وار ہیڈز شامل ہیں۔ یہ معاہدہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی کمیٹیوں کی منظوری کا منتظر ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کئی مہینوں سے مظاہرین اسرائیل کے خلاف اسلحے کی پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم امریکی پالیسی میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی۔ اگست 2023 میں امریکہ نے اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے حمایت یافتہ گروپوں جیسے حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کے خلاف اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کے نتیجے میں 2.3 ملین افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور غزہ میں غذائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔
صدر جو بائیڈن کی مدتِ صدارت 20 جنوری کو ختم ہو رہی ہے، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دوسری مدت کے لیے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ دونوں رہنما اسرائیل کے پُخت حامی سمجھے جاتے ہیں۔




