کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائیبٹ (Bybit) ہیکرز کے حملے کی زد میں آ گئی، جس کے نتیجے میں 1.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اسے تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل چوری میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس چوری کے بعد کرپٹو کرنسی کے تحفظ اور اس کی پائیداری سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ دبئی کی ورچوئل اسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (VARA) اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ خلیج ٹائمز کو جاری کردہ ایک بیان میں اتھارٹی نے کہا کہ ہیکنگ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اور وہ اس پر نظر رکھیں گے جب تک صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ جاتی۔
اتھارٹی نے مزید وضاحت کی کہ بائیبٹ کو دبئی میں ریگولیٹری لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ بائیبٹ، جو دنیا کے بڑے کرپٹو ایکسچینجز میں شمار ہوتی ہے، دبئی میں ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری لائسنسنگ شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بائیبٹ، جس کا صدر دفتر دبئی میں ہے، نے گزشتہ سال ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ اسے دبئی میں خوردہ، مجاز سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے کی عارضی (نان آپریشنل) منظوری ملی ہے۔ کمپنی نے اس منظوری کو امارات میں مکمل کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔




