پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ نہ تو کوئی رعایت مانگ رہے ہیں اور نہ ہی مذاکرات کو عدالتی فیصلے سے منسلک کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر 6 جنوری کو عمران خان کو سزا دی جاتی ہے تو بھی مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، تاہم مذاکرات کے جاری رہنے یا رکنے کا انحصار حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی سنجیدگی اور بات چیت میں پیشرفت پر ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے خلاف ہے جو فارم 47 سے آئی ہے۔ دوسری جانب لاہور کی عدالت میں پیشی کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد مثبت نتائج تک پہنچنا ہے، ورنہ حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات پاکستان کی ضرورت ہے، تحریک انصاف کی نہیں، اور جمہوریت کے دعوے داروں کو سنجیدگی سے مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔




