جبکہ دوسری بائبل لنکن بائبل تھی۔ جس پر 1861میں امریکا کے 16 ویں صدر نے عہدے کا حلف لیا تھا۔ان میں سے ایک بائبل خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلے دور صدارت کا حلف لینے کے لیے بھی استعمال کی تھی۔بائبل پر ہاتھ نہ رکھنے سے سوال پیدا ہوئے کہ ٹرمپ نے ایسا جان بوجھ کر کیا یا وہ بائبل پر ہاتھ رکھنا ہی بھول گئے اور یہ بھی کہ کسی نے انہیں ٹوکا کیوں نہیں؟صدیوں سے امریکا میں یہ روایت رہی ہے کہ صدر اپنے عہدے کا حلف لیتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ بائبل پر ضرور رکھتا ہے۔ جس کا مقصد اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ امریکی آئین کے تحت سچائی اور انصاف قائم کرنے کے عزم پر کاربند رہے گا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے بائبل پر ہاتھ رکھے بغیر ہی پورا حلف لے لیا۔
امریکی آئین میں نومنتخب صدر کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ اپنا ایک ہاتھ بائبل پر رکھے۔جارج واشنگٹن نے سب سے پہلے بائبل پر ہاتھ کر عہدے کا حلف لیا تھا، جان کوئنسی ایڈمز نے قانون کی کتاب کا انتخاب کیا جبکہ روز ویلٹ نے کسی کتاب کے بغیر ہی حلف لیا۔اس لیے ٹرمپ کی حلف برداری میں آئینی لحاظ سے جھول نہیں تاہم اہم روایت توڑنے کے سبب ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین کو ان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا ہے۔




