مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس وقت تک حماس کے ساتھ جنگ بندی کو برقرار رکھے جب تک کہ وہ خطے کا دورہ نہ کرلیں۔
اسرائیل کے Yediot Ahronot وِٹکوف کا مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کئی بار ملتوی کیا جا چکا ہے، لیکن امکان ہے کہ یہ اگلے ہفتے ہو جائے گا۔
"وٹکوف نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہیے جب تک کہ وہ خطے میں نہ پہنچ جائیں، خواہ حماس یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے پہلے مرحلے کو وسط اپریل تک بڑھانا چاہتا ہے، حماس نے دوسرے مرحلے میں منتقلی پر اصرار کیا ہے جس سے جنگ کا مستقل خاتمہ ہونا چاہیے۔
اسرائیل نے نہ صرف جنگ کی واپسی کی دھمکیوں کے ساتھ دباؤ بڑھایا ہے بلکہ جنگ سے تباہ حال غزہ میں سامان اور رسد کی آمد و رفت کو بھی روک دیا ہے۔
حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر غزہ جنگ بندی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
مزاحمتی تنظیم نے غزہ جنگ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کا مطالبہ کیا جس میں مزید فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، مستقل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا شامل ہے۔




