إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ہمیں انتہائی غم اور افسوس کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ پورتو، پرتگال میں مقیم اور پاکستان کے شہر وزیرآباد کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والا بائیس سالہ نوجوان زین رفیق حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ یہ معصوم اور محنتی نوجوان جو گزشتہ کئی ماہ سے اپنے بائیومیٹرک کی تاریخ کا منتظر تھا، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سخت محنت کر رہا تھا، مگر افسوس کہ زندگی کی یہ مختصر مہلت اسے بہت کم ملی۔
زین رفیق کے لیے کئی ماہ تک بائیومیٹرک اپوائنٹمنٹ کا انتظار ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر تھا۔ بالاخر چند روز قبل اُسے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں اس کی بائیومیٹرک اپوائنٹمنٹ کی تاریخ بتائی گئی تھی، جو آئندہ سوموار کو تھی۔ یہ اپوائنٹمنٹ اُس کے لیے نہ صرف ایک ضروری دستاویز کی تکمیل تھی، بلکہ اس کا پہلا قدم تھا جو اُس کی زندگی میں ایک نئی راہ کی طرف بڑھنا تھا۔ لیکن تقدیر کچھ اور ہی فیصلہ کر چکی تھی، اور اُس کی زندگی کا یہ اہم لمحہ اُسے دیکھنے کو نہ ملا۔
اللہ تعالیٰ کی حکمت سے آگاہ، ہم سب جانتے ہیں کہ انسان اپنی موت کے وقت سے بے خبر ہوتا ہے اور کسی کو بھی نہیں معلوم کہ اُس کی زندگی میں اگلا لمحہ کیا لائے گا۔ جیسے کہ ایک مشہور شعر میں کہا گیا:
"آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں”
یہ واقعہ اس حقیقت کو اور بھی واضح کرتا ہے کہ ہم سب کی زندگی میں کوئی بھی لمحہ کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ زین رفیق کے جانے کا غم صرف اس کے خاندان اور دوستوں کے لیے نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ایک تلخ یاد ہے کہ زندگی بہت قیمتی ہے اور ہمیں ہر لمحے کو قدر کے ساتھ گزارنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم زین رفیق کو اپنی بے شمار مغفرت سے نوازے اور اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اُس کے اہلِ خانہ، دوستوں اور تمام متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق دے تاکہ وہ اس غم کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کر سکیں۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین




