انہوں نے بتایا کہ عید کی نماز میں آصف علی زرداری کی طبیعت خراب ہوئی تھی لیکن اب بہتر ہے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں، نواب شاہ میں صحت کی سہولت نہیں ہیں لہٰذا پیر کی رات ان کو کراچی لائے، میں رات کو جب نوابشاہ پہنچا تو اندازہ ہوگیا تھا کہ انہیں کراچی لانا پڑے گا۔
پیر کی رات صدر مملکت کو کراچی لے آئے اور ٹیسٹ شروع کیے، ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ ان کو کورونا ہوگیا ہے لہٰذا ہم نے فوراً اس کا علاج شروع کیا، کچھ ایسی دوائیاں تھیں جو پاکستان میں نہیں ملتیں انہیں باہر سے منگوایا گیا۔
ڈاکٹر عاصم حیسن نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے آصف علی زرداری کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے، کل یا پرسوں وہ اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ کورونا نہیں ہو رہا، دراصل یہ پہلے جیسا نہیں لیکن اب بھی پاکستان میں موجود ہے، اب بھی اس کے کیسز آ رہے ہیں، یہ کورونا کا کسی اور قسم کا ویرینٹ ہے۔
’آصف علی زرداری کو وہی بیماریاں ہیں جو آپ میں سے آدھے سے زیادہ لوگوں کو ہیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریاں چلتی رہتی ہیں۔ میں ایک ذمہ دار ڈاکٹر ہوں جو کہہ رہا ہوں مثبت بات ہے۔ ہمیں کسی سے ڈر نہیں، ان کی صحت اچھی ہے۔ صدر مملکت سے ملاقات پر پابندی ہے صرف ڈاکٹر مل سکتے ہیں۔‘




