اگر دفتر گھر سے دور ہو تو روزانہ کا طویل سفر ذہنی دباؤ اور مالی بوجھ کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لیے جو رش کے باعث دیر سے پہنچنے کا سامنا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر لوگ اپنی رہائش کو دفتر کے قریب منتقل کر لیتے ہیں تاکہ سفر کے اخراجات میں کمی کی جا سکے۔
لیکن ملائیشیا میں ایک بھارتی نژاد خاتون نے پیسے بچانے کے لیے ایک انوکھا طریقہ اپنایا ہے: وہ روزانہ ہوائی جہاز سے دفتر جاتی اور واپس آتی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق، ریچل کور، جو ملائیشیا میں ایک ائیر لائن کے فنانس آپریشنز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ منیجر کے طور پر کام کر رہی ہیں، اپنے منفرد سفر کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہیں۔ ریچل کور پینانگ میں اپنے گھر سے سپانگ میں واقع دفتر تک 400 کلومیٹر کا فضائی سفر روزانہ کرتی ہیں۔ان کا دن صبح 4 بجے شروع ہوتا ہے۔ وہ 5 بجے تک ائیرپورٹ پہنچ جاتی ہیں اور 6 بجے کی پرواز لیتی ہیں، جو تقریباً 30 سے 40 منٹ کا وقت لیتی ہے۔
اس کے بعد وہ پونے 8 بجے تک دفتر پہنچ جاتی ہیں۔ شام کو ان کی واپسی کا عمل بھی اسی طرح ہوتا ہے، اور وہ تقریباً ساڑھے 7 بجے اپنے گھر پہنچتی ہیں۔ایک انٹرویو میں ریچل نے بتایا کہ انہوں نے یہ فلائٹ کا طریقہ اپنے 2 بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے اپنایا۔ اس سے پہلے وہ کوالالمپور میں کرائے کے گھر میں رہتی تھیں اور صرف ہفتہ اور اتوار کو گھر جایا کرتی تھیں۔ لیکن جب ان کے بچے بڑے ہوئے، تو انہیں احساس ہوا کہ انہیں اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔
ریچل نے 2024 کے آغاز میں روزانہ فلائٹ لینے کا فیصلہ کیا، جس سے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن قائم کرنے میں مدد ملی۔ ان کے مطابق، اب ان کے روزانہ کے اخراجات دفتر کے قریب رہائش لینے کے مقابلے میں کم ہیں۔ پہلے ان کے ماہانہ اخراجات 474 امریکی ڈالر تھے، لیکن اب یہ کم ہو کر 316 ڈالر رہ گئے ہیں۔




















