مودی حکومت کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دوٹوک وضاحت جاری کر دی۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے کوئی تابکار مواد خارج ہوا۔ ادارے کے مطابق ایسی کسی سرگرمی یا اخراج کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب بھارت کے آپریشن “سندور” کے بعد بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی میڈیا میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ سرگودھا کے قریب واقع کڑانہ پہاڑیوں پر بھارتی فضائی حملے کے نتیجے میں جوہری حادثہ پیش آیا ہے۔۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ادارے کی یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی تاکہ عوام میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کی اصلاح کی جا سکے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے جوہری معاملات میں سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی بھی تعریف کی۔
دوسری جانب بھارتی فضائیہ نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے کسی جوہری مقام کو نشانہ بنایا۔ ایئر مارشل اے کے بھارتی، ڈائریکٹر جنرل ایئر آپریشنز نے کہا کہ بھارتی فضائی کارروائیاں صرف روایتی اہداف تک محدود تھیں، اور کڑانہ پہاڑیوں یا کسی بھی جوہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے عسکری ادارے کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان میں جوہری مقامات کو کسی طور نشانہ بنانے کا ارادہ شامل نہیں تھا۔




















