دہلی کے 23 سالہ توشار سنگھ بشٹ کو مشرقی دہلی کے شاکرپور علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پر 700 سے زائد خواتین کو دھوکہ دینے اور بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ توشار، جو نوئیڈا میں ایک نجی کمپنی میں ٹیکنیکل ریکروٹر کے طور پر کام کرتا تھا، دن میں ایک معمولی ملازم اور رات میں امریکی ماڈل کے روپ میں خواتین کو دھوکہ دینے کے منصوبے بناتا تھا۔ توشار دہلی کا رہائشی ہے اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلرز ڈگری رکھتا ہے۔ اس کا تعلق ایک متوسط طبقے کے خاندان سے ہے، جہاں والد ایک ڈرائیور، والدہ گھریلو خاتون، اور بہن گڑگاؤں میں ملازم ہیں۔
مالی استحکام کے باوجود توشار نے لالچ اور خواتین کے استحصال کی خاطر سائبر کرائم کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے موبائل ایپ کے ذریعے بین الاقوامی ورچوئل نمبر حاصل کیے اور جعلی پروفائلز بنائیں، جنہیں اس نے بومبل، سنیپ چیٹ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر استعمال کیا۔ وہ ایک امریکی ماڈل کے طور پر اپنی شناخت متعارف کراتا اور اپنے پروفائلز کے لیے برازیلین ماڈل کی تصاویر استعمال کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس کا بنیادی ہدف 18 سے 30 سال کی عمر کی خواتین تھیں، جن سے وہ دوستی کرتا اور ذاتی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرتا۔ ان تصاویر کو بعد میں بلیک میلنگ کے ذریعے پیسے بٹورنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
توشار نے بومبل پر 500 اور سنیپ چیٹ اور واٹس ایپ پر 200 سے زائد خواتین کے ساتھ رابطہ کیا۔ ایک متاثرہ دہلی یونیورسٹی کی طالبہ نے 13 دسمبر 2024 کو سائبر پولیس کو شکایت درج کرائی تھی، جس میں بتایا گیا کہ توشار نے اس کی ذاتی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے پیسے مانگے۔ ویسٹ دہلی سائبر پولیس کے اے سی پی اروند یادو کی قیادت میں ایک ٹیم نے توشار کو شاکرپور سے گرفتار کیا۔ چھاپے کے دوران اس کے موبائل فون، 13 کریڈٹ کارڈز اور خواتین کے ساتھ کی گئی چیٹ کی تفصیلات برآمد کی گئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ توشار کے دو بینک اکاؤنٹس ہیں، جن میں سے ایک میں متاثرین سے حاصل کی گئی رقم کی تفصیلات موجود ہیں، جب کہ دوسرے اکاؤنٹ کی تفتیش کی جا رہی ہے۔




