پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئیں، اس بار متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان کے ساتھ ان کے مصافحے کی تصاویر نے تنازع کھڑا کر دیا۔ سوشل میڈیا صارفین اس مصافحے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مختلف رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
طارق متین نامی صارف نے لکھا، "جب آپ کسی اہم عہدے پر ہوں تو مرد و خواتین دنیا بھر میں مصافحہ کرتے ہیں، اور یہ دنیاوی لحاظ سے قابل قبول ہے۔ لیکن مریم نواز وہی ہیں جنہیں نیب کے افسران کے سامنے پیشی کے دوران محرم و نامحرم کے مسائل یاد آتے تھے۔”
فاطمہ نامی ایک صارف نے مریم نواز کی ایک پرانی ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ کہتی نظر آئیں، "میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے، دین سے محبت میرے خون میں شامل ہے، اور دین کے احکامات کی پابندی میری تربیت کا حصہ ہے۔”
احمد حسین بوبک نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، "مریم نواز نے اماراتی صدر کے ساتھ مصافحہ کیا، یہ وہی ہیں جو نیب میں پیش نہیں ہوتی تھیں اور محرم و نامحرم کا مسئلہ اٹھاتی تھیں۔ لیکن اپنی مرضی سے رویہ بدل کر لبرل بن جاتی ہیں۔”
ایک اور صارف ناظم حسین نے عربوں کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں "اووووو” کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، اور ویڈیو کے کیپشن میں لکھا، "مریم نواز کی تصویر دیکھ کر عرب عوام کا ردعمل۔”
شاہد خان نے طنزیہ انداز میں لکھا، "مریم نواز کا مذہبی کارڈ ختم ہو گیا۔”
یہ تنازعہ مریم نواز کے اس دعوے اور عمل کے درمیان تضاد پر مبنی ہے، جو ان کے سیاسی مخالفین اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے گفتگو کا موضوع بن گیا ہے۔




