اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی “60 فیصد افزودہ یورینیم” کی پیداوار میں تیزی کردی ہے۔ یہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کے قریب ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ویانا میں قائم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی اس رپورٹ کے مطابق 8 فروری تک ایران کے پاس ایسی 274.8 کلوگرام (605.8 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔ یہ نومبر کی آخری رپورٹ کے مقابلے میں 92.5 کلوگرام (203.9 پاؤنڈ) کا اضافہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کا 60 فیصد افزودہ یورینیم 90 فیصد افزودگی سے صرف ایک تکنیکی قدم دور ہے۔ نومبر 2024 کی رپورٹ میں ایران کے پاس 182.3 کلوگرام (401.9 پاؤنڈ) 60 فیصد افزودہ یورینیم تھا جبکہ اگست 2024 میں یہ مقدار 164.7 کلوگرام (363.1 پاؤنڈ) تھی۔
آئی اے ای اے نے اپنی خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران، جو جوہری ہتھیار نہ رکھنے والی ریاستوں میں واحد ملک ہے جو اس سطح کا افزودہ جوہری مواد تیار کر رہا ہے، اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی افزودگی اور یورینیم کے ذخائر باعثِ تشویش ہیں۔ ایجنسی کے مطابق تقریباً 42 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کو اگر مزید 90 فیصد تک افزودہ کیا جائے تو یہ ایک جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
آئی اے ای اے کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق 8 فروری تک ایران کے کل افزودہ یورینیم کا ذخیرہ 8294.4 کلوگرام (18,286 پاؤنڈ) تک پہنچ چکا ہے جو نومبر کے مقابلے میں 1690.0 کلوگرام (3,725.8 پاؤنڈ) کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کسی بھی قسم کی نئی بات چیت سے گریز کر رہا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن ایران پر جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔




















